متحدہ عرب امارات نےجنوری کےمہینےکےلیےاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کےصدر ناروے کوایک خط پیش کیا جس میں 17 جنوری کو ابوظہبی میں حوثی دہشت گردانہ حملوں سےنمٹنےکےلیےکونسل کا اجلاس طلب کرنےکی درخواست کی گئی ہے۔ خط میں حوثیوں کی جانب سےشہریوں اورشہری اشیاء کو نشانہ بنانےکی شدید مذمت کی گئی ہےاورواضح کیا گیا ہےکہ یہ بین الاقوامی قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے،اورکونسل سےمطالبہ کیا گیا ہےکہ وہ یک آوازہوکرحوثیوں کےحملوں کی غیر واضح طورپر مذمت کریں ۔
اقوام متحدہ میں متحدہ عرب امارات کی مستقل نمائندہ محترمہ لانا نسیبہ نےکہا، "متحدہ عرب امارات حوثیوں کی جانب سےشہریوں اورشہری اشیاء کونشانہ بنانےکی شدید مذمت کرتا ہےجوکہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔"
"متحدہ عرب امارات متاثرین کےاہل خانہ سےتعزیت کا اظہارکرتا ہےاورزخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کرتا ہے۔ یہ غیر قانونی اوردہشت گردی میں خطرناک اضافہ، ہمارے خطےمیں افراتفری پھیلانے کی حوثیوں کی کوششوں میں ایک اورقدم ہے۔ یہ حوثیوں کی طرف سےامن اورسلامتی کو خطرے میں ڈالنےکےلیےاقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتےہوئےغیرقانونی طورپرحاصل کردہ صلاحیتوں کو استعمال کرنےکی ایک اورکوشش ہے۔ متحدہ عرب امارات سلامتی کونسل سےمطالبہ کرتا ہےکہ وہ یک آوازہو کران دہشت گردانہ حملوں کی سختی اورواضح طورپرمذمت میں شامل ہو، جوبین الاقوامی قوانین کی مکمل خلاف ورزی کرتےہوئےکیےگئےتھے۔"
17 جنوری 2022 کو متحدہ عرب امارات کےوقت کےمطابق صبح 10 بجے، حوثی ملیشیا نےابوظہبی بین الاقوامی ہوائی اڈے پرمصفح آئی سی اے ڈی 3 کےعلاقےاورنئےتعمیراتی علاقےکو نشانہ بنایا، یہ دونوں شہری انفراسٹرکچرہیں۔ ان حملوں کےنتیجےمیں تین پٹرولیم ٹینکرزپھٹ گئےجس میں دو ہندوستانی ایک پاکستانی ہلاک اورچھ دیگر شہری زخمی ہوئےہیں ۔
حوثی ملیشیا دہشت گرد تنظیم نےان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔