منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے ابوظہبی میں یورپی یونین اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ساتویں ساختی بات چیت ہوئی اختتام پذیر
جمعرات 14/11/2024
یوروپی یونین اور متحدہ عرب امارات کے درمیان منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے نمٹنے کے حوالے سے ساتویں ڈھانچہ جاتی بات چیت ابوظہبی میں منعقد ہوئی۔ چنانچہ یہ اعلیٰ سطحی اجلاس مالیاتی جرائم کا مقابلہ کرنے اور بین الاقوامی تعاون بڑھانے میں ملک اور یورپی یونین کے درمیان جاری تعاون کو اجاگر کرتا ہے۔
واضح رہے کہ وزارت خارجہ میں اقتصادی اور تجارتی امور کے معاون وزیر سعید مبارک الہاجری نے وزارت خارجہ کے جنرل آفس میں اس اجلاس کی صدارت کی۔ جہاں متحدہ عرب امارات کی طرف سے وزارت اقتصادیات، وزارت داخلہ، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت اور غیر قانونی تنظیموں کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے قومی کمیٹی کا جنرل سیکرٹریٹ، مالیاتی معلومات یونٹ، وزارت انصاف، مرکزی بینک، وفاقی اتھارٹی برائے شناخت، شہریت، کسٹمز اور پورٹس سیکیورٹی، دبئی پولیس، دبئی سینٹر فار اکنامک سیکیورٹی نیز ایگزیکٹو آفس برائے نگرانی اور عدم پھیلاؤ نے اس ساختی مکالمے میں حصہ لیا۔
وہیں دوسری جانب، یورپی یونین کی طرف سے اس میں مملکت میں یورپی یونین کی سفیر محترمہ لوسی برجر کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کی ایجنسیوں نے شرکت کی۔ بشمول یورپی کمیشن کے ڈائریکٹوریٹ-جنرل برائے مائیگریشن اینڈ ہوم افیئرز (DG HOME)، ڈائریکٹوریٹ-جنرل برائے مالی استحکام، مالیاتی خدمات اور کیپٹل مارکیٹس ایسوسی ایشن (DG FISMA)، ڈائریکٹوریٹ-جنرل برائے انصاف اور صارفین (DG JUST) اور یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس (EEAS)۔
اس ساختی مکالمے کے دوران، عزت مآب سعید مبارک الہاجری نے کہا: "متحدہ عرب امارات جدت، تجارت اور سرمایہ کاری کا ایک متحرک مرکز ہے، نیز اسے دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔"
عزت مآب نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات کی اقتصادی صورتحال کی مضبوط بنیاد ایک لچکدار اور موثر مالیاتی نظام پر مبنی ہے جسے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کا مقابلہ کرنے کے لئے اہم قیادت اور سخت طریقہ کار کی طرف سے حمایت حاصل ہے۔
آپ نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ یہ کوششیں سیکورٹی کو یقینی بنانے، شفافیت کو بڑھانے اور متحدہ عرب امارات کی عالمی مسابقت کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ چنانچہ اس تناظر میں، آپ نے یورپی یونین، اس کے اداروں اور رکن ممالک سمیت اپنے بین الاقوامی ہم منصبوں کے ساتھ تعاون کے لیے متحدہ عرب امارات کے عزم کی تجدید کی۔
اس بات چیت کے دوران، فریقین نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے موجودہ عالمی رجحانات اور چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔ جہاں اس میدان میں بین الاقوامی شراکت داری کی اہمیت کی تاکید کرتے ہوئے، متحدہ عرب امارات نے یورپی یونین اور رکن ممالک کے ساتھ تعاون کو بڑھانے کے لیے اپنی حالیہ کوششوں اور اسٹریٹجک اقدامات پر زور دیا۔
اس کے علاوہ، اماراتی فریق نے متحدہ عرب امارات کی قومی حکمت عملی کے بارے میں ایک جامع بریفنگ فراہم کی، جو کہ مالیاتی جرائم سے نمٹنے، مالیاتی نظام کے غلط استعمال کو روکنے اور منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے وابستہ خطرات کو کم کرنے کے لیے ایک مضبوط فریم ورک وضع کرتا ہے۔
علاوہ ازیں، دونوں فریقوں نے مالیاتی نظام کو غیر قانونی سرگرمیوں سے بچانے، ان کی سالمیت کے تحفظ نیز بین الاقوامی معیارات پر عمل پیرا ہونے میں مشترکہ کوششوں کی حمایت کے لیے تعاون کو جاری رکھنے اور انھیں تقویت دینے کے ممکنہ طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے متحدہ عرب امارات اور یورپی یونین کے درمیان ساتویں ڈھانچہ جاتی بات چیت دونوں فریقوں کے درمیان مضبوط شراکت داری میں ایک قدم آگے کی نمائندگی کرتی ہے۔ چنانچہ اس سے موثر اقدامات اور پائیدار شراکت داری کے ذریعے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کا مقابلہ کرنے کے مشترکہ مقصد کو تقویت ملتی ہے۔