متحدہ عرب امارات اور بحرین کے درمیان مشترکہ کمیٹی کے امور کی عبداللہ بن زاید کررہے ہیں سربراہی
اتوار 24/11/2024
آج منامہ میں منعقد ہونے والے متحدہ عرب امارات اور مملکت بحرین کے درمیان مشترکہ سپریم کمیٹی کے 12ویں اجلاس کے کام کی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ عزت مآب شیخ عبدالله بن زايد آل نهيان نے صدارت کی۔ جبکہ بحرینی فریق کی سربراہی مملکت بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے کی۔
واضح رہے کہ مشترکہ سپریم کمیٹی کے اس اجلاس میں وزیر اقتصادیات عبداللہ بن طوق المری وزیر مملکت محترمہ نورہ بنت محمد الکعبی، وزیر مملکت برائے امور نوجوانان عزت مآب ڈاکٹر سلطان بن سیف النیادی، وزیر مملکت عزت مآب خلیفہ بن شاہین المرر نیز دونوں ممالک کے کئی اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
عزت مآب شیخ عبدالله بن زايد آل نهيان نے کمیٹی کے اجلاس کے دوران اپنی تقریر کے آغاز میں کہا: "مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ آج میں مملکت بحرین میں ہوں، جو ہم سب کو عزیز ہے، اور جس کے ساتھ بھائی چارے، دوستی اور مشترکہ کام کی ہماری تاریخ رہی ہے۔"
عالی ذی وقار نے زور دے کر کہا: "مشترکہ کمیٹی کے اس بارہویں اجلاس کے انعقاد سے دونوں دوست ممالک کے درمیان قائم تعلقات کی گہرائی کی ہوتی ہے۔ چنانچہ یہ وہ تعلقات ہیں جنھیں صدر مملکت عزت مآب شیخ محمد بن زايد آل نهيان حفظه الله اور ان کے دوست عالی وقار شاہ حمد بن عیسیٰ ال خلیفہ حفظه الله کی حمایت اور دیکھ بھال حاصل ہے۔ اس دوران آپ نے مزید کہا: "یہ اسپانسر شپ اور تعاون ہمارے اسٹریٹجک تعلقات کو آگے بڑھانے اور دونوں فریقوں کے درمیان دو طرفہ تعاون کے شعبوں کو متنوع بنانے کے لیے ہماری مشترکہ کوششوں اور خواہشات کے لیے ایک اہم ترغیب ہے۔"
عزت مآب نے مزید کہا: "متحدہ عرب امارات اپنے دوست ملک کو تمام شعبوں میں ایک اسٹریٹجک پارٹنر... اور خلیج عرب اور پورے خطے میں ترقی اور خوشحالی کے عمل کا ایک لازمی حصے کے طور پر دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے۔"
عالی ذی وقار نے اس بات کی نشاندہی کی کہ "مستقل بنیادوں پر مشترکہ کمیٹی کے اجلاس کا تسلسل دونوں ممالک کے مشترکہ کام کے عزم کا اظہار کرتا ہے۔ جہاں مواقع اور کامیابیوں نیز مختلف شعبوں میں چیلنجز اور بقایا مسائل پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے، ساتھ ہی ساتھ ہمیشہ دونوں ممالک کی خدمت کے بہترین مواقع کی تلاش سے متعلق گفتگو کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں، یہ نقطہ نظر چیلنجوں پر قابو پانے اور انہیں ٹھوس کامیابیوں میں تبدیل کرنے کے لیے تخلیقی حل پیدا کرنے کے لیے ہماری مشترکہ خواہش کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ چنانچہ اس سے دونوں ممالک کے عوام کے مفادات پورے ہونگے۔‘‘
عزت مآب شیخ عبدالله بن زايد آل نهيان نے کہا، "متحدہ عرب امارات اور مملکت بحرین کے درمیان اقتصادی تعلقات صرف اعداد نہیں ہیں، بلکہ ایک مشترکہ تقدیر اور ایک پرجوش ہدف کا اظہار ہیں جسے ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ تیل کے علاوہ کی ہماری دوطرفہ تجارت نے گزشتہ برسوں میں غیر معمولی ترقی حاصل کی ہے، جیسا کہ یہ 2023 میں 7.5 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔"
عالی ذی وقار نے مزید کہا: "ہم بحرین میں اپنے بھائیوں کے ساتھ تمام شعبوں: صنعت، تجارت، قابل تجدید توانائی، نقل و حمل، بنیادی ڈھانچہ اور خدمات میں اپنی شراکت کی بنیاد کو بڑھانے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔"
عالی ذی وقار نے زور دے کر کہا: "ہم متحدہ عرب امارات میں اپنے بھائیوں اور مختلف بین الاقوامی اداروں اور کثیر جہتی پلیٹ فارمز کے اندر اہم شراکت داروں کے ساتھ تعاون کی ضرورت پر یقین رکھتے ہیں۔ چنانچہ اسی مناسبت سے، ہم بین الاقوامی اداروں اور فورمز میں دونوں برادر ممالک کی نامزدگیوں کے لیے باہمی تعاون کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ کثیر الجہتی کاموں میں اپنی شراکت کو مضبوط بنانے کے منتظر ہیں۔"
اپنی تقریر کے اختتام پر، عالی ذی وقار نے اپنے خطاب میں عزت مآب ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "میرے بھائی بروشد، مجھے آپ سے مل کر خوشی ہوئی نیز مجھے آپ اور آپ کی ٹیم کے ساتھ کام کرنے پر فخر ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ان ورک ٹیموں کا شکریہ جنہوں نے مشترکہ کمیٹی کے اس اجلاس کو کامیاب بنانے کی بھرپور کوشش کی۔ مجھے امید ہے کہ آپ ہمارے دونوں ممالک کی خدمت اور ترقی کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔"
کمیٹی کے امور کے اختتام پر، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ عزت مآب شیخ عبدالله بن زايد آل نهيان اور بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے متحدہ عرب امارات اور مملکت بحرین کے درمیان مشترکہ سپریم کمیٹی کے 12ویں اجلاس کے منٹس پر دستخط کیے۔
اور پھر اس کے بعد عزت مآب اور عزت مآب ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی 4 یادداشتوں اور ایک ایگزیکٹو پروگرام پر دستخط میں شریک ہوئے۔
ان مفاہمت کے میمورنڈم میں درج ذیل شامل ہیں:
سول ایوی ایشن کے شعبے میں تعاون کو مستحکم کرنے اور تجربات کے تبادلے پر مفاہمت کا میمورنڈم۔ اس پر وزیر اقتصادیات عالی ذی وقار عبداللہ بن طوق المری اور مملکت بحرین کے وزیر ٹرانسپورٹ اور کمیونی کیشنز ڈاکٹر شیخ عبداللہ بن احمد آل خلیفہ نے دستخط کیے۔
دو طرفہ تعاون اور مالیاتی اور اقتصادی پالیسیوں اور مہارت کے تبادلے پر مفاہمت کا میمورنڈم۔ اس پر وزارت خزانہ میں بین الاقوامی مالیاتی تعلقات کے امور کے قائم مقام اسسٹنٹ انڈر سیکرٹری عزت مآب علی عبداللہ شرفی نیز مملکت بحرین میں وزارت خزانہ اور قومی معیشت میں بین الاقوامی تعاون کے امور کے اسسٹنٹ انڈر سیکرٹری عالی وقار انجینئر نواف السید ہاشم نے دستخط کیے۔
مسابقت بڑھانے کے شعبوں میں تعاون کے لیے مفاہمت کا میمورنڈم۔ اس پر فیڈرل سینٹر فار مسابقتی اور شماریات کے ڈائریکٹر محترم حنان منصور اہلی جبکہ بحرین کی طرف سے وزارت خزانہ اور قومی معیشت میں مسابقتی اور اقتصادی اشاریوں کے اسسٹنٹ انڈر سیکرٹری ڈاکٹر فیصل عیسیٰ حماد نے دستخط کیے۔
تربیت کے شعبے میں تعاون اور حکومت کی قابلیت کو فروغ دینے کے بارے میں مفاہمت کا میمورنڈم۔ سرکاری بااختیار بنانے کے محکمے سے وابستہ ابوظہبی گورنمنٹ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل عزت مآب ڈاکٹر یاسر احمد النقبی نیز مملکت بحرین میں انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن کی ڈائریکٹر جنرل محترمہ ڈاکٹر شیخہ رنا بنت عیسیٰ بن دعيج الخلیفہ نے دستخط کیے۔
علاوہ ازیں، سیاحت کے شعبے میں تعاون کے ایک ایگزیکٹو پروگرام پر بھی دستخط کیے گئے۔ چنانچہ اس پر وزیر اقتصادیات عبداللہ بن طوق المری اور مملکت بحرین کی وزیر سیاحت محترمہ فاطمہ بنت جعفر الصیرفی نے دستخط کئے۔